Government College University Faisalabad

Anual Dinner at College of Law

Posted on: 08 Apr 2011

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر ذاکر حسین نے کہاہے کہ ملک اس وقت بڑی مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور اب عدالتیں ہی عوام کے لئے امیدکی آخر ی کرن ہیں لاءکے طلباءمستقبل کے ججز اور آئین و قانون کے رکھوالے ہیں اس لیے ان کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ انصاف اور آ ئین وقانون کی بالادستی کے بغیر کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے گزشتہ روزکالج آف لاءکے سالانہ ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وائس چانسلر نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے خاتمے کے فصلے کو افسوسناک قرار دئیے ہوتے کہا کہ جی سی یونیورسٹی طلبہ پر بوجھ ڈالے بغیر اپنے اخراجات اپنے وسائل سے پورے کر ئے گی اُنہوںنے کہا کہ اگر ہمارے پاس قابل فیکلٹی ممبران موجود ہونگے تو ہمیں بجٹ کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی اس لیے جی سی یونیو رسٹی پحھلے چند ماہ میں پچاس سے زیادہ پی ایچ ڈی پروفیسر کی خدمات حاصل کر چکی ہے وائس چانسلر نے کہا کہ میرٹ میری اولین تر جیح ہے اور پاکستان کی بقاءکوالٹی ایجوکیشن اور میرٹ میں ہی مضمر ہے اُنہو ں نے کہا کہ پاکستان میں کو ئی ٹیکنالوجی پارک نہیں ہے اور میں نے فیصل آباد میں تاجر براداری کے اشتراک سے ٹیکنالوجی پارک کے قیام کے لیے PC-Iتیار کر لیا ہے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری قانون پنجاب ڈاکٹرسیدابوالحسن نجمی نے کہا کہ تعلیم یافتہ اور خواندہ ہونے میں بہت فرق ہے طلباءکو اپنے اندر شعور کی بیداری اور اور اچھائی اور بُرائی میں فرق سمجھنا چاہیے اُنہوں نے لاءکے طلباءکو اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا کالج آف لاءکے پرنسپل محمد ممتاز نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جی سی یونیورسٹی کے لاءڈپیارٹمنٹ کا نصاب بین الااقوامی معیار کے مطابق ہے اُنہوں نے کہ وکلاءبراداری نے ہمیشہ ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے چاہے وہ تحریک پاکستان ہو یا عدلیہ کی بحالی کی تحر یک ہو تقریب کے دوران ایس ایس پی انوسٹی گیشن ڈاکٹر عثمان انور ایڈیشنل سیشن جج چوہدری نذیر احمد سنیئر سول جج چوہدری رفاقت گوندل ، صدر چمبر آ ف کامرس شیخ عبدالقیوم ، صدر ڈسٹر کٹ بار ایسوسی ایشن فواد چیمہ، سابق صدر ایس ایم اقبال ، رجسٹرار شیخ محمد اکرم کے علاوہ سیکرٹری وائس چانسلر خرم شہزاد قریسی، سیئنروکلاءفیکلٹی ممبران اور طلباءو طالبات کی کیثر تعداد موجود تھی۔