جی سی یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا ہے کہ نوع انسانی کی بقاءجنگلات سے وابستہ ہے کیونکہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، جنگلات کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ ایک پودا لگانے سے لے کر کٹائی تک مسلسل آمدنی کا ذریعہ ہوتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جی سی یونیورسٹی میں ” درخت بچاﺅ زمین جگاﺅ“ کے عنوان سے منعقدہ واک کے اختتام پر شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ واک میں رجسٹرار شیخ محمد اکرم ڈینز ڈاکٹر حفیظ الرحمان طاہر تونسوی، ڈاکٹر پرویز عظیم، ڈاکٹر نورین عزیز قریشی ، کرنل افضل سپرا ،خرم قریشی ،انتظامی و تعلیمی شعبوں کے سربراہان کے علاوہ طلباءو طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی جنہوں نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ جن پر جنگلات کی اہمیت کے حوالے سے مختلف نعرے درج تھے واک بیسک سائنس بلک سے شروع ہو کر وائس چانسلر سیکریٹریٹ پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی ۔ واک کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک کے قابل کاشت رقبہ کے 25فیصد حصے پر جنگلات ہونے چاہیے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں صرف 4%رقبے پر جنگلات ہیں اورزرعی شعبہ کی 40فیصدمنفی گرو تھ میں جنگلات کی کمی بھی ایک اہم وجہ ہے لہٰذا ہمیں شجر کاری پر خصوصی توجہ دینا ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال ہزاروں پودے لگائے جاتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان کی دیکھ بھال نہیں کی جاتی اس سلسلے میں شعور کی آگاہی کی بھی ضرورت ہے کیونکہ پودے کسی بھی ادارے اور ملک کی زینت ہوتے ہیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ پاکستان دنیا کا خوش قسمت ملک ہے جہاں چار موسم اور تین سو دن سورج نکلتا ہے جن سے ہمیں فوری فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنی چاہیے۔ واک کا اہتمام کوارڈینیٹر سٹوڈنٹس افیئرز ذیشان احمد خان نے کیا تھا۔
[nggallery id=27]
