جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا کہ ماضی میں بعض لوگوں نے وسائل کا بے دریغ استعمال کیا اور یونیورسٹی کی حقیقی ترقی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے ۔ اپنی تعیناتی کے دو ماہ کے دوران 21پی ایچ ڈی اساتذہ کی خدمت حاصل کر لی ہے جبکہ سلیکشن بورڈ کے ذریعے عنقریب 17ریگولر پی ایچ ڈی اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہونے والے اساتذہ ان کے علاوہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یونیورسٹی ڈگری کالج کے سٹاف کی طرف سے دیئے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ و ہ امریکہ کی مشہور یونیورسٹیوں کے ساتھ فیکلٹی کے تبادلے کے لیے مفاہمت کی دستاویزات پر دستخط کرنے والے ہیںجس سے جی سی یونیورسٹی بین الاقوامی دھارے میں شامل ہو جائےگی ۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی کی پالیسی اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کسی بھی پوسٹ پر بغیر اشتہار دیئے کسی کو بھی مستقل نہیں کیا جا سکتا اس لیے مالی سے لے کر پروفیسر تک کی سیٹس ایڈورٹائزکر دیں ہیں اور میرٹ پر پورا اترنے والوں کو ہی مستقل کیا جائے گا تاکہ کسی کی بھی حق تلفی نہ ہو۔ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا کہ یونیورسٹی کے پر امن تعلیم ماحول کو شرپسند عناصر کے ہاتھوں سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے۔ یونیورسٹی میں صفائی و ستھرائی کے خصوصی احکامات جاری کیے ہےں تاکہ یونیورسٹی میں آنے والے طلباءکو بہتر ماحول میسر آسکے۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ سنڈیکیٹ کے احکامات کے مطابق 2007سے لے کر 25اکتوبر 2010تک سپیشل آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے انہوں نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ یونیورسٹی کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے ان کا ساتھ دیں اور محنت کو اپنا شعار بنائےں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پرنسپل ڈگری کالج پروفیسر عتیق الرحمن خان نے کہا کہ ڈاکٹر ذاکر حسین کی بطور وائس چانسلر تعیناتی سے جی سی یونیورسٹی دن دُگنی ترقی کرے گی کیونکہ وہ 30سال سے زائد کا قومی و بین الاقوامی اداروں میں کلیدی عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کنٹریکٹ اساتذہ کے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈائریکٹر ایڈمن نے اس موقع پر خطاب ہوئے یونیورسٹی میں موجود مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر ذاکر حسین کی طرف سے اس سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات کو سراہا۔ اس موقع پر ڈگر ی کالج کے اساتذ ہ کے علاوہ ڈائریکٹر کیو ای سی ڈاکٹر زبیر صدیقی ، سیکریٹری ٹو وائس چانسلر خرم شہزاد قریشی ، کیپٹن قمر اقبال اور دیگر بھی موجود تھے۔

