Government College University Faisalabad

MOU Signed with WWF

Posted on: 07 Feb 2011

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد اور ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن پاکستان کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پر گزشتہ روز دستخط کیے گئے جس کے تحت ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن جی سی یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباءکو اپنے دائرہ کار میں ہونے والی تحقیقاتی کاوشوں میں معاونت فراہم کرے گا اور جی سی یونیورسٹی ان کی آگاہی اور تعلیمی سرگرمیوں میں تعاون فراہم کرے گی۔ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین اور ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن پاکستان کے ڈائریکٹر پروگرام حماد نقی خان نے کیے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا کہ مفاہمت کی یاداشت سے جی سی یونیورسٹی کے اساتذہ و طلباءکی تحقیقاتی کاوشوں میں ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن کے متنوع دائرہ کار کی وجہ سے ریسرچ کی کوالٹی میں بہتری آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کرنا ان کے اس پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت وہ یونیورسٹی کو بین الاقوامی اداروں کے قریب لانا چاہتے ہیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ فطرت اور جنگلی حٰات کے تحفظ کےل یے شعور اور آگاہی کی اشد ضرورت ہے اور اس سلسلے میں ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن پاکستان کے ڈائریکٹر پروگرامز حماد نقی خان نے بتایا کے ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن دنیا میں جنگلی حیات اور فطرت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی سب سے بڑی تنظیم ہے اور پاکستان میں یہ گزشتہ 25سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ دونوں اداروں کے درمیان مسلسل رابطے کے لیے ڈاکٹر تحریمہ افتخار اور لعل خان بابر کو رابطہ آفیسر جبکہ ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر مبشر نیاز اور حماد خان نقی کوارڈینیٹرز ہونگے۔ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کے موقع پر رجسٹرار شیخ محمد اکرم ، ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر مبشر نیاز ، کوارڈینیٹر ڈاکٹر زبیر احمد ، سیکریٹری ٹو وائس چانسلر خرم شہزا د قریشی کے علاوہ مختلف شعبہ جات کے سربراہان اور شعبہ باٹنی کی فیکلٹی بھی موجودتھی ۔

 ‡¤ ’¤ ¤¢ ¤¢Ž’…¤ š¤”ž ³‚‹ ¢Ž ¢ŽžŒ ¢£žŒ ž£š š¤ŒŽ¤“  ƒœ’„  œ¥ ‹ŽŸ¤  Ÿš¦Ÿ„ œ¤ ¤‹“„ ƒŽ “„¦ Ž¢ ‹’„Š– œ¤¥ £¥ ‡’ œ¥ „‰„ ¢ŽžŒ ¢£žŒ ž£š š¤ŒŽ¤“  ‡¤ ’¤ ¤¢ ¤¢Ž’…¤ œ¥ ’„¦ ¢Ž –ž‚£ œ¢ ƒ ¥ ‹£Ž¦ œŽ Ÿ¤¡ ¦¢ ¥ ¢ž¤ „‰›¤›„¤ œ¢“¢¡ Ÿ¤¡ Ÿ˜¢ „ šŽ¦Ÿ œŽ¥  ¢Ž ‡¤ ’¤ ¤¢ ¤¢Ž’…¤   œ¤ ³¦¤ ¢Ž „˜ž¤Ÿ¤ ’ŽŽŸ¤¢¡ Ÿ¤¡ „˜¢  šŽ¦Ÿ œŽ¥ ¤ó Ÿš¦Ÿ„ œ¤ ¤‹“„ ƒŽ ‹’„Š– ‡¤ ’¤ ¤¢ ¤¢Ž’…¤ œ¥ ¢£’ ˆ ’žŽ ƒŽ¢š¤’Ž Œœ…Ž œŽ ‰’¤  ¢Ž ¢ŽžŒ ¢£žŒ ž£š š¤ŒŽ¤“  ƒœ’„  œ¥ Œ£Ž¤œ…Ž ƒŽ¢ŽŸ ‰Ÿ‹  ›¤ Ё   ¥ œ¤¥ó ’ Ÿ¢›˜ ƒŽ Š–‚ œŽ„¥ ¦¢£¥ ¢£’ ˆ ’žŽ ƒŽ¢š¤’Ž Œœ…Ž œŽ ‰’¤   ¥ œ¦ œ¦ Ÿš¦Ÿ„ œ¤ ¤‹“„ ’¥ ‡¤ ’¤ ¤¢ ¤¢Ž’…¤ œ¥ ’„¦ ¢ –ž‚£ œ¤ „‰›¤›„¤ œ¢“¢¡ Ÿ¤¡ ¢ŽžŒ ¢£žŒ ž£š š¤ŒŽ¤“  œ¥ Ÿ„ ¢˜ ‹£Ž¦ œŽ œ¤ ¢‡¦ ’¥ ޤ’Žˆ œ¤ œ¢ž…¤ Ÿ¤¡ ‚¦„ޤ ³£¥ ¤ ó  ¦¢¡  ¥ œ¦ œ¦ Ÿš¦Ÿ„ œ¤ ¤‹“„ ƒŽ ‹’„Š– œŽ    œ¥ ’ ƒŽ¢ŽŸ œ ‰”¦ ¦¥ ‡’ œ¥ „‰„ ¢¦ ¤¢ ¤¢Ž’…¤ œ¢ ‚¤  ž›¢Ÿ¤ ‹Ž¢¡ œ¥ ›Ž¤‚ ž  ˆ¦„¥ ¦¤¡ó ¢£’ ˆ ’žŽ  ¥ œ¦ œ¦ š–Ž„ ¢Ž ‡ ž¤ ‰½„ œ¥ „‰š— œ¥ž ¤¥ “˜¢Ž ¢Ž ³¦¤ œ¤ “‹ •ޢބ ¦¥ ¢Ž ’ ’ž’ž¥ Ÿ¤¡ ¢ŽžŒ ¢£žŒ ž£š š¤ŒŽ¤“  œ¤ œ¢“¤¡ ›‚ž ’„£“ ¦¤¡ó ¢ŽžŒ ¢£žŒ ž£š š¤ŒŽ¤“  ƒœ’„  œ¥ Œ£Ž¤œ…Ž ƒŽ¢ŽŸ ‰Ÿ‹  ›¤ Ё   ¥ ‚„¤ œ¥ ¢ŽžŒ ¢£žŒ ž£š š¤ŒŽ¤“  ‹ ¤ Ÿ¤¡ ‡ ž¤ ‰¤„ ¢Ž š–Ž„ œ¥ „‰š— œ¥ ž¤¥ œŸ œŽ ¥ ¢ž¤ ’‚ ’¥ ‚¤ „ —¤Ÿ ¦¥ ¢Ž ƒœ’„  Ÿ¤¡  ¤¦ “„¦ 25’ž ’¥ ƒ ¤ Š‹Ÿ„ ’Ž  ‡Ÿ ‹¥ ަ¤ ¦¥ó ‹¢ ¢¡ ‹Ž¢¡ œ¥ ‹ŽŸ¤  Ÿ’ž’ž ށ‚–¥ œ¥ ž¤¥ Œœ…Ž „‰Ž¤Ÿ¦ š„ŠŽ ¢Ž ž˜ž Ё  ‚‚Ž œ¢ ށ‚–¦ ³š¤’Ž ‡‚œ¦ Œ£Ž¤œ…Ž Ž¤’Žˆ Œœ…Ž Ÿ‚“Ž  ¤ ¢Ž ‰Ÿ‹ Ё   ›¤ œ¢ŽŒ¤ ¤…ސ ¦¢ ¥ó Ÿš¦Ÿ„ œ¤ ¤‹“„ ƒŽ ‹’„Š– œ¥ Ÿ¢›˜ ƒŽ އ’…ŽŽ “¤Š Ÿ‰Ÿ‹ œŽŸ í Œ£Ž¤œ…Ž Ž¤’Žˆ Œœ…Ž Ÿ‚“Ž  ¤ í œ¢ŽŒ¤ ¤…Ž Œœ…Ž ‚¤Ž ‰Ÿ‹ í ’¤œŽ¤…ޤ …¢ ¢£’ ˆ ’žŽ ŠŽŸ “¦ ‹ ›Ž¤“¤ œ¥ ˜ž¢¦ ŸŠ„žš “˜‚¦ ‡„ œ¥ ’ނށ¦  ¢Ž “˜‚¦ ‚… ¤ œ¤ š¤œž…¤ ‚§¤ Ÿ¢‡¢‹„§¤ ó