Seminar in Department of Food Science on World Water Day
Posted on: 23 Mar 2014
پا نی زندگی ہے انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ہما را آبپا شی کا نظام بہت پُرا نا ہے ہمیں اسے تبدیل کر نا ہو گا ۔اور اس میں تبدیلی بھی ایسی جس سے ہم ترقی خو شحا لی کی طرف بڑھ سکیں ہمیں ڈیمز بنا نا ہو ں گے بڑے نہ سہی چھوٹے ڈیمز ہی سہی لیکن یہ ڈیمز ملک کی اہم ضرورت ہیں ۔ ہمیں ملک کے ٹیوب ویل نظام کو بہتر بنا نا ہو گا ۔ انکا صیحح استعمال یقیناًہما ری ترقی کا ضا من ہے ۔ ان خیا لا ت کا اظہار جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے جا معہ کے شعبہ فو ڈ سائنسز نیو ٹریشن اینڈ ہوم اکنا مکس کے زیر اہتمام پا نی کے عا لمی دن کے حوا لے سے منعقدہ ایک روزہ سیمینار کے دوران کیا اُنہوں نے کہا کہ پینے کا صا ف پا نی انسانی صحت کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ صاف پا نی کا استعمال کرئے جیساکہ کھا نا کھا نے سے پہلے ہا تھ دھونے کے پا نی کو بھی اس لیول کا ہو نا چاہئے جس سے یہ تسلی رہے کہ بیما ری قریب نہیں آئے گی ۔ اُنہوں نے ملک میں نظام آب پا شی کی طرف توجہ دلا ئی اور کہا کہ ملک میں چھ سو ہزار ٹیوب ویل ورکنگ میں ہیں ہمیں اُنکی بہتری کے نظام پر خا ص توجہ دینا ہو گی اُنہوں نے کہا کہ وا ٹر سیکو رٹی ضروری ہے ۔ مزید ہما رے ملک میں پا نی کی قیمت نہیں ہمیں واٹر مینجمنٹ پر تو جہ دینا ہو گی۔ انکا کہنا تھا کہ ہم اپنے کسان ایجو کیٹ کریں اور اُسکی تربیت میں کو ئی کمی نہیں چھو ڑیں گے تو یقیناًاِس کے ملکی زراعت پر بہتر اثرات مرتب ہو ں گے اور اس سلسلے میں ہمیں اپنا نہری نظام مضبوط طریقے سے شیڈول کر نا ہو گا ۔ اس سیمینار میں جا معہ کے شعبہ فوڈ سائنس نیوٹریشن اینڈ ہو م اکنا مکس کی ڈائریکٹر پرو فیسر ڈاکٹر نگہت بھٹی نے اظہار خیال کر تے ہو ئے کہا کہ جہاں خو راک انسا نی زندگی کیلئے اہمیت کی حا مل ہے وہاں پا نی بھی انسا نی صحت اور زندگی کے لئے اُتنا ہی ضروری ہے انہوں نے جا معہ میں پا نی کے عا لمی دن کے مو قعے پر اس سیمینار کو وائس چانسلر کے بڑے ویژن کا نتیجہ قرار دیتے ہو ئے کہاکہ ایسے سیمینار اور ورکشاپس سے ہما رے طلبہ و طا لبات اتنا کچھ سیکھ سکتے ہیں جتنا کہ 30دن کے تیس لیکچرز کے ذریعے لہٰذا ایسے سیمینار کا سلسلہ جا ری رہنا چا ہئے۔ سیمینار سے خطاب کر تے ہو ئے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹر مقصود احمد نے کہا کہ اپنے کام کی صلا حیت کو بڑھانا چا ہتے ہیں تو ہما ری خوراک اور پا نی صحت مند ہو نا چا ہئے لہٰذا انسانی صحت میں پانی اہم کردار ادا کر تا ہے۔ صحت مند معا شرے میں صحت مندلوگ تب ہی ورکنگ کر پا ئیں گے جب انہیں پینے کا صاف پا نی مہیا ہو گا ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہما رے ہا ں پا نی سے متعلق جو بیما ریاں ہیں ہم حفظان صحت کے اصو لوں پر عمل کر کے اُن پر قا بو پا سکتے ہیں ۔ سیمینار میں جی سی یونیورسٹی کے شعبہ فو ڈ سائنسز کے انچا رج ڈاکٹر عمیر ارشد با جوہ نے اظہا ر خیال کر تے ہو ئے کہا کہ آج ہمیں ملک میں چھو ٹے ڈیمز بنا نے کی ضرورت ہے ۔ ملک میں لو گوں کو زیا دہ سے زیا دہ آگا ہی حا صل ہو گی اس کے ساتھ ساتھ ایسی ورکشا پس کے ذریعے ہما رے طلباء نا لج حا صل کر تے ہیں جو کہ پریکٹیکل فیلڈ میں اُن کے کام آتا ہے جسکا اثر ملک کی خو شحالی پر مثبت ہو تا ہے ۔ سیمینار میں ملک کے نامور فوڈ ٹیکنا لو جسٹ پرو فیسر ڈاکٹر فقیر محمد انجم نے اپنے خیا لات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں پا نی کے مسا ئل کا سا منا ہے۔ اور اُن مسا ئل کے حل کیلئے ہمیں اپنی پو ری کوششوں کو برؤئے کا رلا تے ہوئے ملک کو خو شحا لی کے ٹریک پر لے جا نا ہو گا ۔ اُنہوں نے کہا کہ پا نی کے ذریعے ہم اپنے بجلی کے بحران کو بھی حل کر سکتے ہیں جو اس وقت کا تقا ضہ ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک میں ترقی اور خو شحا لی کیلئے اس کے ساتھ ساتھ صحت مندزندگی کیلئے صاف پانی کا ہو نا بے حد ضروری ہے ۔ سیمینار میں انو ئرمینٹل سائنسز کے ڈاکٹر ریا ض نے بھی خطاب کیا اور پا نی کی اہمیت کو اُجا گر کیا ۔ آخر میں ڈین فیکلٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی پرو فیسر ڈاکٹر نو رین عزیز قریشی نے اظہار خیال کیا اور کہا کہ ہما رے ملک میں واٹر مینجمنٹ کی اشد ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پینے کا صا ف پا نی عوام کے مہیا کر نا بھی اشد ضروری ہے کیو نکہ اِس کے ذریعے ہما را معا شرہ صحت مند نظر آئے گا ۔ اور دُنیا میں ہمیشہ صحت مند قومیں ہی ترقی کیا کر تی ہیں اُنہوں نے پا نی کی اہمیت پر زور دیتے ہو ئے کہا کہ آج اگر ہم ترقی کی منا زل کو تیزی سے طے کر نا چا ہتے ہیں تو ہمیں اس طرف توجہ دینا ہو گی۔ مزید انہوں نے جا معہ میں اس سیمینار کے انعقاد کو سرا ہا اور کہا کہ ایسے سیمینار ترقی و خو شحا لی کا با عث ہو تے ہیں ۔ اُنہوں نے اُمید ظا ہر کی کہ ہما ری جا معہ کے شعبہ فو ڈ سائنس نیو ٹریشن اینڈ ہو م اکنا مکس کے طلبہ یقیناًایسے سیمینار ز سے استفادہ کرتے ہیں جسکا ملک پر اچھا اثر پڑتا ہے ۔