جی سی یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس کے زیر اہتمام ’’ پاکستان میں غربت کے سرکاری اعد ادو شمار‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار گذشتہ روز ویڈیو کانفرنس ہال میں ہوا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی چےئرمین اینوویٹو ڈویلپمنٹ سٹر یٹجیز ڈاکٹر سہیل جہانگیر ملک نے کہا کہ کنزیومر پرائس انڈکس کے ذریعے قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے اسی کی بنیاد پر حکومت معاشی پالیسیاں بناتی ہے اور غربت کی سطح کا تعین کرنے کیلئے بھی کنزیومر پرائس انڈکس استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں بجلی، گیس، پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور سرکاری اعدادوشمار کے مطابق غربت کم ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارا کنزیومر پرائس انڈکس ٹھیک کام نہیں کر رہا اس کو ٹھیک کرنے کیلئے ہم نے حکومت کو سفارشات پیش کیں ہیں ۔اگر حکومت اصلی کنزیومر پرائس انڈکس بنائے تو حالات اور بھی خراب نظر آئیں۔ جب تک پتہ نہ لگ جائے کہ کتنے غریب ہیں تب تک کوئی کامیاب معاشی پالیسی نہیں بن سکتی غربت دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ ایگریکلچر پروڈکشن کے ساتھ ساتھ اُس کو سپورٹ کرنے والے عوامل بھی بڑھنے چاہئیں تا کہ روزگار کے مواقع زیادہ سے زیادہ ملیں۔ اُنہوں نے کوالٹی ایجوکیشن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طلباء کو معاشیات کے بنیادی اصولوں کو سمجھنا ہو گا اور اپنی بہتری اور ملک کی بہتری کے لئے کام کرنا چاہئے۔اُنہوں نے طلباء کو مخا طب کرتے ہوئے کہا کہ آپ محنت اور لگن کے ساتھ کام کریں اور یونیورسٹی میں ایک ریسرچ یونٹ بنا لیں اور فیصل آباد میں غربت اور قیمتوں کا تعین کر کہ ہر مہینے ایک رپورٹ بنا کر پبلش کیا کریں اور چیمبر آف کامرس میں بھجیں تاکہ صیح اعدادو شمار اعلیٰ سطح تک پہنچ سکیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا کہ ڈاکٹر سہیل جہانگیر ملک سے میرے 30سال پُرانے تعلقات ہیںیہ بہت اچھے ڈویلپمنٹ اکنامک دان ہیں اُنہوں نے بہت سے طلباء کی تربیت کرائی ہے۔ اُنہوں نے ڈاکٹر سہیل کا جی سی یونیورسٹی آمد پر اُن کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر چےئر مین ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس ڈاکٹر صوفیہ انور نے بھی ڈاکٹر سہیل اور سیمینار کے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔