دمہ کے عالمی دن پر جی سی یونیورسٹی ڈائریکٹوریٹ آف میڈیکل سائنسز کے زیر اہتمام آگاہی سیمینار گذشتہ روز ہشمت ہال میں ہوا۔ اور پُر امن واک کا بھی انعقاد کیاگیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز ڈاکٹر پرویز عظیم نے کہا یہ بہت اچھا سیمینار ہے ۔ایسے سیمینار ز کے ذریعے آگاہی ملتی ہے اور ایسے سیمینار کو مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے ۔ اس موقع پر چسٹ سپیشلسٹ ، سوشل ورکز ادیب اور پنجاب میڈیکل کالج کے سابق پروفیسر ڈاکٹر سلطان احمد عبداللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دمہ قابلِ علاج اور کنٹرول ہے دمہ ایک ایسا درینہ مرض ہے جس کی وجہ سے سانس کی نالیاں متاثر ہوتی اور سانس کی نالیوں سوزش اور پھٹے سخت ہونے کی وجہ سے سانس کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے یہ بچوں بڑوں سب کو متاثر کر سکتا ہے ۔ کچھ لوگوں کو دمہ ورثے میں ملتا ہے اور کچھ کو دھول ، پولن، کیڑے ، مکوڑے ، شدید بدبو اور سپرے، شعلے اور دھواں سے دمے کی علامات پیدا کر سکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی خوراک میں زیادہ تر سبزیاں ، پھل، دہی اور پانی کا استعمال زیادہ کرنا چاہئے اور فاسٹ فوڈ سے اجتناب برتنا چاہئے اور بیماری کی صورت میں فورا ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ اس موقع پر پنجاب میڈیکل کالج کے پروفیسر ڈاکٹر عامر حسین نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت 300ملین افراد دمہ کا شکار ہیں اور ہر سال 250,000افراد کی دمہ کی وجہ سے اموات ہو رہی ہیں ۔اُنہوں نے دمہ کی بیماری کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ہمیں سموکنگ اور فاسٹ فوڈ سے اجتناب کرنا چاہئے اور اپنے گھروں کو صاف ستھرا رکھنا چاہئے تاکہ ماحولیاتی آلودگی سے بھی بچا جا سکے۔ اس مو قع پر شعیب احمد ملک نے دمہ کی پتھالوجی کے بارے میں لیکچر دیا اُنہوں نے کہا کہ سانس کی نالی تنگ ہونے کی وجہ سے سیٹی کی آواز آتی ہے۔ آنکھوں میں خارش بھی دمہ کی علامتیں ہیں ۔ اس موقع پر رافیعہ امتیاز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فزیوتھراپی کے ذریعے بھی دمہ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ایسی ورزش کروائی جاتی ہیں جس کے ذریعے پھیپھڑوں کو بڑھوتری ملتی ہے۔ سانس لینے کی ورزش کرائی جاتی ہے اُنہوں نے کہا کہ ہمیں ورزش کو اپنا معمول بنانا چاہئے ۔ سیمینار کے اختتام پر ڈائر یکٹر ڈائریکٹوریٹ آف میڈیکل سائنسز ڈاکٹر ریاض حسین ڈب نے تمام مہمانوں، ڈین، فیکلٹی ممبران اور طلباء کا شکریہ ادا کیا۔