تھیلسیمیاخون کی ایک ایسی مو رثی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اگر شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کا تھیلسیمیا ٹیسٹ کروا لیا جائے تو ا مرض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے اس بیماری کے روک تھام کے لئے بڑے پیمانے پر آگاہی کی ضرورت ہے ۔ اِن خیالات کا اظہار جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے تھیلسیمیا کے عالمی دن کے مو قع پر جی سی یونیورسٹی اور سُندس فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اُنہوں نے مزید کہا ہم یونیورسٹی میں ایتھکس کمیٹی بنا رہے ہیں تا کہ اس مسلئے کی وجہ تلاش کر کے اُس کو حل کر سکیں اور اس کے ساتھ ساتھ فسٹ کزن میرج کی روک تھام کیلئے کمیونٹی موبلئزیشن کی جائے گی۔ اس مو قع پر ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف میڈیکل سائنسز ڈاکٹر ریاض حسین ڈب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تھیلسیمیاکی وجہ تلاش کرنا ہو گیااور شادی سے پہلے ایک دفعہ ٹیسٹ ضرور کروانا چاہئے اُنہوں نے وائس چانسلر، رجسٹرار، ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افےئر فیکلٹی کا شکریہ ادا کیا اور اُنہوں نے تمام سماجی تنظیموں کو خراج تحسین پیش کیا جو تھیلسیمیاکے خلاف کام کر رہی ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افےئرز ڈاکٹر ندیم سہیل نے کہا کہ ہمیں تھیلسیمیا کے امراض کے بچوں کی زندگی میں خوشیاں لانے کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم خون کا عطیہ دے کر اُن کی زندگی کی خوشیاں لا سکتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہم جی سی یونیورسٹی میں 13مئی کو بلڈ کیمپ لگا رہے ہیں ۔ اس موقع پر ڈاکٹر رافیعہ امتیاز نے کہا کہ فزیکل تھراپی کے ذریعے بچوں کو آسان ورزش کروائی جا تی ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ ہڈیوں کی کمزوری ، تھکن ، جوڑوں کے درد کو آسان ورزش کے ذریعے ٹھیک کیا جاتا ہے تا کہ اُن کی تکلیف میں کمی آ سکے۔ اس موقع پر سندس فاؤنڈیشن سے ڈاکٹر ثناء نے کہا اس بیماری سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ حمل کے ابتداء میں ٹیسٹ کروائیں اس ٹیسٹ میں حمل اگر 10سے 13ہفتوں کا ہو تو پتہ چل جاتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں پلنے والا بچہ تھیلسیمیا کا شکار ہے۔ اس طرح 17ہفتوں تک اُس کی سی۔وی۔ایس کر دی جاتی ہے کیوں کہ ہمارے مذہب میں ہے کہ (لاغر اور بیمار قوم پیدا نہ کریں) اس موقع پر سُندس فاؤنڈیشن کے بلڈ کولیکشن انچارج محمدمیسرنے کہا کہ یہ موروثی بیماری ہے یہ بیماری جان لیوا اور بہت تکلیف دہ ہے ہمیں اس متاثرہ مریضوں سے محبت کرنی چاہئے اور ہمیں وعدہ کرنا ہو گا کہ اس پیغام کو آگے سے آگے پہنچائیں۔