امریکن سویا بین ایسوسی ایشن اور جی سی یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف فوڈ سائنس نیوٹریشن اور ہوم اکنامکس کے اشتراک سے ’’سویا بین اور پروٹین مال نیوٹریشن‘‘ کے مو ضوع پر سیمینار گذشتہ روز جی سی یونیورسٹی اقبال ہال میں ہوا۔ سیمینار کے مہمانِ خصوصی امریکن سویابین ایسوسی ایشن سے فوڈ اینڈ نیوٹریشن کنسلٹنٹ مارکس ہملٹن نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سویا بین گوشت پروٹین کی بہترین متبادل ہے اور یہ پروٹین حاصل کرنے کا انتہائی سستا ذریعہ ہے یہ گوشت کی کمی کو پورا کر سکتا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ورلڈ انسٹیٹیوٹ فارسویا ان ہیومن ہیلتھ کے کنٹری ہیڈ شاہنواز جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے سویابین پروٹین حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ پاکستان میں تمام نیوٹیشنل محرکات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہاں نیوٹریشنل ایمر جنسی لگانے کی ضرورت ہے۔ ڈیپارٹمنٹ آف فوڈ سائنس اینڈ نیوٹریشن کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فقیر محمد انجم نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خواتین میں 50%آئرن، 37فیصد وٹامن اے،46%زنک اور وٹامن ڈی کی بھی کثیر تعداد میں کمی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی بچوں کی ایک بڑی تعداد میں عمر کے لحاظ سے کم وزن اور چھوٹے قد کے بچے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ سویابین پروٹین مال نیوٹریشن کے خلاف بہترین فوڈ ہے۔ تقریب کے آخر میں ڈائریکٹر ہوم اکنامکس ڈاکٹر نگہت بھٹی نے آنے والے مہمانوں اور سیمینار کے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سویا بین کے حوالے سے جی سی یونیورسٹی میں سویابین کی آفادیت پریہ پہلا سیمینار ہے ایسے سیمینار کے انعقاد سے طلباء کی صلاحیتوں کو مزید بڑھانے میں مدد ملتی ہے اور ہم آئندہ بھی ایسے سیمینارز کرواتے رہیں گے۔ آخر میں ڈاکٹر فقیر محمد انجم نے مہانِ خصوصی مارکس ہملٹن اور شاہنواز جنجوعہ کو یادگاری شیلڈ سے نوازہ۔