جی سی یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ آف سوشیالوجی اورمقامی تنظیم کے باہمی تعاون سے ’’تعلیم ، صحت اور امن کے موضوع‘‘ پر ایک روزہ سیمینارر گذشتہ روز فیض احمد فیض ہال میں منعقد ہوا سمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلرڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا کہ ہمارے ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج نہیں ہے ملک میں صرف 5.6فیصد طلباء ہائر ایجوکیشن حاصل کررہے ہیں جبکہ ہمارے ملک کی نو کروڑ عوام نوجوانوں پر مشتمل ہے ملک میں زیادہ سے زیادہ سکول کالجز ، اور یونیورسیٹیز کھلنی چاہئیں تاکہ نوجوان نسل تعلیم کی طرف مائل ہوانہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر صحت اور امن کا حصول ممکن نہیں ہو سکتا آج کی یوتھ تعلیم کے بغیر پھر رہی ہے جس کی وجہ بے راہ روی کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ نوجوان حکومت پر انحصار کرنے کی بجائے اپنا کاروبار کریں اور لوگوں کو نوکریاں دیں صحت کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہو تا ہے جی ڈی پی کا صرف 1.5فیصد بجٹ صحت پرسالانہ خرچ ہوتا ہے جوکہ بہت کم ہے انہوں کے کہا کہ بحیثیت قوم ہم امن کو ترس گئے ہیں، والدین دعا کرتے ہیں کہ ان کا بچہ خیریت سے گھر آجائے امن کو خراب کرنے میں فرقہ بندی بہت ہوا دے رہی ہے انہوں نے مزید کہا کہ بندوق سے امن نہیں آسکتا ہمیں تعلیم یافتہ ہونے اور نوجوانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی ضرورت ہے اس کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا اور نہ ہی صحت اور امن کی راہ میں حائل مشکلات کو ختم کیا جاسکتا ہے سیمینار کے اختتام پر وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر حسین اور چیئر مین شعبہ سوشیالوجی ڈاکٹر حق نواز نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی معاشرتی قومی مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے ایسے سیمینار منعقد کرواتے رہیں گے۔