Government College University Faisalabad

Condolence Reference of Muhammad Zaheer Qureshi

Posted on: 21 Apr 2014

ظہیر قریشی ایک فرد نہیں ایک ادارے کا نام تھا۔ اُنہوں نے مقامی صحافت میں نئے روشن اور تابناک باب رقم کیا اُنکی جاری کی ہوئی خبر میں ہمیشہ مثبت پہلو شامل ہوتے تھے۔ صحافت کی دنیا میں اُنکا نام سنہری حروف میں تحریر کیا جائے تو کم نہ ہوگا۔ اِن خیالات کا اظہار صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان نے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد اور حقوق العباد فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ملک کے معروف صحافی (مرحوم) ظہیر قریشی کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ صحافت سلطنت کا چوتھا ستون ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ پاکستانی میڈیا ہمیشہ پوری دُنیا میں مثبت رہا ہے۔ اُنہوں نے ظہیر قریشی (مرحوم )کے حوالے سے کہا کہ یہ شہر اور شہر کے مکین اُنکی محبتوں کے مقروض رہیں گے۔ اُنہوں نے کہا جتنا مجھے اُن کے بارے میں معلوم ہے اُنہوں نے مقامی صحافت کو ایک نیا ویژن دیا اس وقت سیاسی ،سماجی، علمی، ادبی اور کھیلوں سے متعلق آج کی خبرؤں میں ایک نیا رنگ شامل ہوتا ہے۔ کمپیوٹر کی لکھائی رنگوں کا استعمال آج میڈیا کے استعمال میں رہتا ہے ۔ اُنہوں نے (مرحوم )ظہیر قریشی کو اُنکی خدمات کے حوالے سے خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقعے پر جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرا تعلق (مرحوم) ظہیر قریشی کے والد خلیق قریشی سے تھا اور میں نے اُنکو بھی ملک کا سرمایہ محسوس کیا ۔اُنہوں نے کہا اس خاندان کو اللہ کی عطا ہے کہ خلیق قریشی اور پھر اُن کے صاحبزادے محمدظہیر قریشی نے صحافت کے میدان میں بہت عزت پائی ۔پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے مزید کہا کہ انسان کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں کو تاہی نہیں کرنی چاہئے اور ایمانداری لگن سے اپنے فرائض انجام دینے چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب میں یہ یونیورسٹی جوائن کی تھی اُس وقت یہ جامعہ خسارے میں چل رہی تھی میں نے پوری ایمانداری اور لگن کے ساتھ اپنی ورکنگ جاری رکھی اور آج ہماری جامعہ کے خزانے میں ایک ارب نوے کروڑ روپے موجود ہیں ۔ اُنکا کہنا تھا کہ اگر ایمانداری اور لگن سے اپنی ورکنگ جاری رکھی جائے تو آج ظہیر قریشی کو وفات پائے 17سال ہو گے لیکن دُنیا اُنہیں آج بھی اچھے نام سے یاد کرتی ہے۔ اس موقعے پر اُنہوں نے ماس کمیو نیکیشن کے شعبہ کے محمد طاہر حسین ڈوگر کو اسکی بہتر تعلیمی کارکردگی پر ظہیر قریشی ایوارڈ سے نوازہ ۔ اس موقعے پر ایم پی اے نجمہ افضل نے بھی ظہیر قریشی مرحوم کی صحافتی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ تعلیمی ادارے اور NGO سیکٹر مل کر اگر ایسے لوگوں کی یاد میں خصوصی تقاریب منعقد کریں گی تو اسطرح سے اُن لوگوں کی مغفرت ہو جائے گی جو اس دُنیافانی سے گزر چُکے۔ اس موقعے پر حقوق العباد فاؤنڈیشن کے چےئر مین اور (مرحوم) ظہیر قریشی کے قریبی دوست محمود ملک نے ظہیر قریشی کے حوالے سے بتا یا کہ وہ بہت نیک انسان اور لائق صحافی تھے وہ ہمیشہ پہلے معاملے کی نوعیت کو جانچتے پھر تحریر کیلئے قلم اُٹھاتے اور سچائی پر مبنی تحریر کو عوام اخبار میں عوام کے سامنے رکھ دیتے۔ اُنکی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے معروف صحافی (مرحوم) ظہیر قریشی کے بیٹے احمد ثبات نے کہا کہ جن میں 16سال کا تھا اُس وقت سے میرے والد نے میرا ساتھ چھوڑا اور وفات پاگے۔ آج 17سال ہوئے لیکن دُنیا آج بھی انہیں اتنا ہی پیا رکرتی ہے جتنا 16سال پہلے کرتی تھی اُنہوں نے اپنے والد محترم کا ذِکر کرتے ہوئے کہا کہ صبح سے لیکر رات تک میں نے ہمیشہ انہیں دُعائیں دیتے اور دُعائیں لیتے ہی پایا اس کے ساتھ انہیں خبریں لکھتے خبریں پڑھتے اور اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے پایا ۔ (مرحوم) ظہیر قریشی کی یاد میں منعقدہ تقریب فیصل آباد کے صحافیوں نے جن میں مقبول لودھی حمید شاکر اور سلیم ناظم بھی اظہار خیال کیا اور اپنے اپنے انداز میں انہیں انکی صحافتی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔

[nggallery id=217]