جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا ہے کہ انڈسٹری اور تعلیم کا چولی دامن کا ساتھ ہے اگر ہمارے تعلیمی اداروں نے ملکی صنعت کے لیے ہنر مند افراد پیدا نہ کیے تو ترقی کا خواب شرمندہ تعبیرمیں ہوسکتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں کے صنعتکاروں کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صنعتکاروں کے ساتھ یہ میٹنگ جی سی یونیورسٹی اور مقامی انڈسٹری کے درمیان پائیدار دو طرفہ تعلقات قائم کرنے کے لیے بلائی گئی تھی تاکہ فیصل آباد کے صنعتکار جی سی یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس موقع پر وائس چانسلر نے جی سی یونیورسٹی کے نیو کیمپس میں 200ایکٹر اراضی پر مشتمل ٹیکنالوجی پارک کے قیام کی تجویز صنعتکاروں کو پیش کی جس کے تحت فیصل آباد کی تینوں یونیورسٹیاں اور دوسرے بڑے تحقیقاتی ادارے انڈسٹری کے ساتھ مل کر ان کی پراڈکٹ کے آئیڈیا سے لے کر تیاری تک تعاون کریں گے اور ٹیکنالوجی پارک میں ان کو ایک بہترین مارکیٹ ملے گی انہوں نے کہا کہ یورپ کے ہر صنعتی شہر میں ایسے پارکس موجود ہیں لیکن پاکستان میں یہ اپنی طرز کا واحد ٹیکنالوجی پارک ہوگا اور فیصل آباد میں اس کا قیام ناگزیر ہے کیونکہ یہاں پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ انڈسٹری ہے، وائس چانسلر نے کہا کہ ہم نے انڈسٹری میں جدید رجحانات کو متعارف کروانا ہوگاکیونکہ ملکی معیشت میں زراعت کی نسبت انڈسٹری کا حصہ بڑھ رہا ہے۔ میٹنگ میں شہر کی صنعتکار برادری نے وائس چانسلر کے انڈسٹری کے بارے وژن اور ٹیکنالوجی پارک کے آئیڈیا کو سراہا اور اپنی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈائریکٹرا یڈمن چوہدری محمد مشتاق نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اسی وجہ سے فیصل آباد کو پاکستان کا مانچسٹر کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کے ہر صنعتکارکا کسی نہ کسی حوالے سے ادارہ سے تعلق رہا ہے اس لیے اس کے مسائل کے حل کے لیے بھی انہیں تعاون کرنا چاہیے۔ میٹنگ کے دوران ڈین ڈاکٹر طاہر تونسوی ، ڈاکٹر پرویز عظیم ڈاکٹر نورین عزیز قریشی ، رجسٹرار شیخ محمد اکرم ، ڈاکٹر مقصود احمد،ڈاکٹر نگہت بھٹی ،ڈاکٹر مبشر نیاز،ڈاکٹر زبیر احمدبھی موجود تھے۔

