Government College University Faisalabad

SOOFI Conference

Posted on: 13 Oct 2011

 جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا ہے کہ صوفیاءاکرام نے حسن سلوک ، اخلاق ، عاجزی، انکساری اوریگانگت کا درس دیا ہے اور جن اعلیٰ قدروں کا پرچار کیا ہے اور جس طرح سکون، امن اور رواداری کا سبق سکھایا ہے اور اپنے کلام کے ذریعے جس طرح مردہ دلوں میں نئی روح پھونکی ہے اس کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ان کے کلام ، ان کے مفلوظات اور ان کے فرامین پر نہ صرف عمل کریں بلکہ اس کی تشہیر کا سامان بھی مہیا کر دیں تا کہ مایوسی کے بادل چھٹ جائیں اور ایک روشن اور منور دن طلوع ہو جو ہماری نئی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت بن سکے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ روز جی سی یونیورسٹی میں شعبہ پنجابی ادب کے زیر اہتمام ایک روزہ صوفی کانفرنس کے پہلے سیشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا، وائس چانسلر نے اس موقع پر مادری زبان پنجابی کے فروغ کے لیے شعبہ پنجابی کو انسٹیٹوٹ بنانے اور حضرت سلطان باہو چیئر قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اولیا ءاکرام اور صوفیاءنے ہر جگہ اسلامی کی تبلیغ و اشاعت کا احسن فریضہ سر انجام دیا اور اس کے ساتھ ساتھ صوفی شعراءنے اپنے الہامی کلام کی بدولت لوگوں کے تاریک دلوں میں نور اسلام کی شمع روشن کی یقینی طور پر یہ پاکباز ہستیاں قابل تحسین اور لائق تقلید ہیں، ڈاکٹر ذاکر حسین نے شعبہ پنجابی کے چیئرمین کو ہدایت کی کہ حضرت سلطان باہو اور دیگر شعراءپر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے لکھائے جائیں۔ کانفرنس سے صاحبزادہ سلطان احمد علی ، پنجابی زبان کے معروف شاعر افضل احسن رندھاوا، ڈین ڈاکٹر طاہر تونسوی کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے پنجابی زبان کے معروف ادیب اور شعراءاکرام نے اپنے مقالے پڑھے صاحبزادہ سلطان احمد علی نے اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوفیاءنے معاشی ، ثقافتی اور معاشی معاملات کا نچور پنجابی میں دیا ہے اور ان کی شاعری سے معاشر ے کی ٹھوس سچائی کا عکس دکھائی دیتا ہے جس کا تعلق عام شہری سے ہے۔ ممتاز شاعر افضل احسن رندھاوا نے کہا کہ پنجابی زبان صوفیاء، سکھ گرو حضرات اور پنجابی لوگوں کی وجہ سے زندہ ہے اور جب تک پنجابی لوگ زندہ ہیں پنجابی زبان قائم و دائم رہے گی انہوںنے کہا کہ بد قسمتی کی بات ہے کہ پنجابی زبان کو ایک ہزار سال سے سرکاری سرپرستی نہیں حاصل ہوسکی جبکہ پنجابی زبان و حدت کی بھی علامت ہے۔ زرعی یونیورسٹی کے ڈین کلیہ زراعت ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہ کہا کہ پنجابی محبت ، چاشنی شیریں زبان ہے، تصوف کی دنیا مزاج سے حقیقت کا سفر ہے، تصوف کی دنیا ادب سے عبارت ہے اور سائنس بے ادب ہے لیکن دونوں کی منزل ایک ہے۔ صوفی کا نفرنس میں شعبہ سرائیکی ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید چانڈیو، پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، ڈاکٹر دلشاد احمد ٹوانہ ، ڈاکٹر امجد بھٹی ، ڈاکٹر عبدالرزاق ساجد" پنجاب دے صوفی شاعر پس منظرتے پیش منظر "پر اپنے مقالے پیش کیے ، کانفرنس میں پنجابی کی طالبہ نسرین اختر نے شاہ حسین کا کلام ’ ’ مائیں نہیں میں کنوں آکھاں“ بھی پیش کیا۔ کانفرنس میں ڈینز ، یونیورسٹی اساتذہ ، طلبہ و طالبات کے علاوہ پنجابی ادب اور صوفیا سے لگن رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی کانفرنس کے اختتام پر ڈین آف اورینٹل لرننگ نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ وائس چانسلر نے مہمانوں میں شیلڈز اور کتابیں تقسیم کیں۔

[singlepic id=738 w=320 h=240 float=center]