One Day Symposium on Prospects for A Glorious Pakistan: Role of Emerging Technologies
Posted on: 12 Dec 2013
پاکستان کی سر زمین قدرتی و سائل سے مالا ما ل ہے کا پر گولڈ، لیڈ، رنگ اور چاندی کے اتنے ذخائر ابھی تک پو شیدہ ہیں کہ اُن سے کئی سٹیل ملیں چلائی جا سکتی ہیں ۔ مغربی طا قتیں اُن ذخائر پر قبضے کے لئے قبائل کو آپس میں لڑ واتی ہیں ۔ دو انٹر نیشنل کو رٹس نے ان ذخائر پر ہمارا حق تسلیم کر لیا ہے اب کو ئی ہو شیاری دکھا کر 2% رائلٹی کے عوض اُس پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ سیاست دان سیا سی مفا دات سے با لا تر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے کریں۔ اِن خیالات کا اظہار ایٹمی دھماکے کے قومی ہیرو ڈاکٹر ثمر مبا رک مند نے جی سی یو نیورسٹی کے ایک روزہ سمپو زیم کی افتتاحی تقریب میں کیا ’’ پرا سپکٹس فار گلو ریس پاکستان کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا کردار‘‘Prospects for a Glorious Pakistan role of Emeging Technologies کے مو ضوع پر ہو نے والے سمپو زیم میں لیکچر کے دوران اُنہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں کول کے ذخائر سعودی عرب کے برا بر ہیں ۔ انڈیا اپنی بجلی کی ضروریات ساٹھ فیصد سے زیادہ کو ل سے پوری کر رہاہے جبکہ چائنہ اپنی انرجی کی 78 فیصد ضرورت کول سے پوری کر رہا ہے جبکہ پاکستان میں صرف 27% کول استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستان میں تھر اور ریکو ڈک کے مقام پر آئیڈیل کول کے ذخائر ہیں ۔ وفاقی حکومت نے اس پرا جیکٹ کی منظوری تین سال قبل دی تھی۔ لیکن پراجیکٹ فنڈز کی کمی کا شکار ہے ابھی تک صرف 20فیصد فنڈ ریلیز کئے گئے ہیں جس سے ابتدائی طور پرسو میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی تمام تیاری اور تجربات مکمل ہو چکے ہیں ۔ اگر یہ پراجیکٹ مکمل ہو جاتا ہے تو ہم گھریلو ضرورت کے علاوہ صنعتی یو نٹس کو بھی مسلسل بجلی فراہم کر سکیں گے۔ جلد یا بدیر سوئی گیس پر انحصار ختم کر کے کول پر منتقل ہو نے سے نہ صرف انرجی کرائس ختم ہو گا بلکہ عوام کو قیمتوں میں بھی ریلیف مل جا ئے گا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جی سی یو فیصل آباد اس ملک کے لئے اپنی مثال آپ ہے۔ جی سی یو کی ترقی دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ اگر لیڈر کے اندر کو الٹی ہو تو کو ئی راستہ نہیں روک سکتا ۔ ہم جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شکر گزار ہیں کہ اُنہوں نے ہمیں پلیٹ فارم دیا کہ ہم طلباء و طا لبات کو بتا سکیں کہ ہم ایک شا ندار قوم ہیں اور اگر ہمیں مواقع ملیں تو ہم بہترین کا رکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ہم وطن کی محبت سے سر شار ہیں اس کے لئے ہم سڑکوں پر ٹرالر چلانے سے لیکر سا ئنسی تجربات تک کہیں بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ پاکستان کے پاس تین ریسو رسز ہیں اگر حکومت چاہے تو بلوچستان کا کاپر گو لڈ، تھر کا کو ئلہ اور نو جوانوں کی طاقت ملکر جی سی یو کی طرح اس ملک کو صف اول کے ملکوں میں کھڑا کر سکتی ہے۔ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا کہ جو قومیں اپنے ہیرو کی قدر کرتی ہیں وہ کبھی زوال پذیر نہیں ہو تیں ہم ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور اُنکے پرا جیکٹ کے تمام افراد کو سلام پیش کر تے ہیں ۔ وائس چانسلر اور تمام فیکلٹی نے کھڑے ہو کر ڈاکٹر ثمر مبارک اور سمپو زیم کے شرکاء کو خراج تحسین پیش کیا ۔ سمپو زیم کے دوسرے سیشن میں تھر پرا جیکٹ کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے اس پرا جیکٹ استحکام، کول ، گیس کی افا دیت پر گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ تھر کول پرا جیکٹ ایک مستحکم پرا جیکٹ ہے اور یہ سا لوں تک ملک کی انرجی کی ضروریات انتہائی کم ریٹس میں پوری کر نے کی صلا حیت رکھتا ہے۔ بلو چستان کا پر گو لڈ پرا جیکٹ کے مینیجنگ ڈائریکٹر ارشد محمود نے کہا کہ ریکو ڈک میں سونے اور کا ہر کے ذخا ئر پا کستان کا اثا ثہ ہیں ۔ جن کے ذریعے بلوچستان امیر ترین صوبہ بن سکتا ہے۔ جنرل مینیجر نیسکام اسلام آباد ڈاکٹر ارم عا مر نے کہا کہ کول سے گیس پیدا کرنا بے حد آسان ہے اور انڈر گراؤنڈ ہو نے کی وجہ سے ما حو لیات بھی محفوظ رہیں گے۔جدید ٹیکنا لوجی کے ذریعے ہم سے پہلے یہ کام آسٹریلیا ، کینڈا،چائنہ ، برا زیل ، آئر لینڈ، یو رپ اور ساؤتھ افریکہ میں ہو رہا ہے۔ سمپو زیم کے تیسرے سیشن میں جدید ٹیکنا لو جی کے استعمال کے معا شرے میں ثمرات پر لیکچر ہو ئے۔ با ئیو ٹیکنا لوجی کر سئن کالج یو نیورسٹی لا ہور کے پرو فیسر کو ثر عبدا اللہ ملک نے کہاکہ بڑھتی ہو ئی آبادی اور ما حو لیات کی وجہ سے ملک کو شدید بحران کا سا منا ہے جسکے لئے جدید طریقوں کے استعمال سے خو راک کی پیدا وار کو بڑھا یا اور نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے اس سمپو زیم کے کنوینئر ڈین فیکلٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی ڈاکٹر نو رین عزیز قریشی ، ڈاکٹر فرحت عباس اور ڈاکٹر محمد زبیر تھے جبکہ پر نسپل آرگنا ئزر ڈاکٹر اسماء حق اور ڈاکٹر تحا سن گلزار تھے۔