Indigenous On Campus Training for Non-Teaching Staff (Day 1: Inaugural Session)
Posted on: 08 Sep 2014
جی سی یونیورسٹی فیصل آبادمیں پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد چیئر مین ہائیر ایجو کیشن کمیشن، اسلام آباد کے احکامات کی روشنی میں یونیورسٹی کے غیر تدریسی افسران و عملہ کیلئے پانچ روزہ تربیتی کورسز(آئی او ٹی)کا آغازکیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب کا انعقاد صوفی برکت ہال ، ڈاکٹر ذاکر حسین بلاک میں ہوا۔ تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول سے تربیتی کورس کا آغاز کیا گیا۔یونیورسٹی ہٰذا کے رجسٹرار محمدایوب شیخ نے اس تربیتی پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس تربیتی کورس کا مقصد یونیورسٹی کے نان ٹیچنگ سٹاف کے معیار کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔ اس تربیتی پروگرام میں انتظامی ، مالی، آڈٹ ، پرچیز و پروکیورمنٹ، کوالٹی انہانسمنٹ امور کے متعلقہ قوانین اور قواعد و ضوابط کے ساتھ ساتھ امتحانی نظام کی بابت تمام قوانین پر تفصیلی تربیت کروائی جائے گی۔ علاوہ ازیں، لیڈرشپ، ٹیم مینجمنٹ اور ٹیم ورک، گڈ گورنس ، فائل ورک ، نوٹنگ ڈرافٹنگ، ہاسٹل مینجمنٹ و دیگر تمام اہم موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا تاکہ یونیورسٹی ملازمین اور افسران اپنے کام کو بہ خوبی سر انجام دے سکیں اور زیادہ بہتر پیشہ ور کے طور پر خو د کوپیش کر سکیں۔ رجسٹرار محمد ایوب نے بتایا کہ اس تربیتی پروگرام کیلئے تمام تر فنڈنگ ہائیر ایجو کیشن کمیشن کی جانب سے فراہم کی جارہی ہے اور اس کوکامیاب بنانے کیلئے چیئر مین ایچ ای سی نے خصوصی توجہ فرمائی ہے ، جس کے لئے یونیورسٹی افسران تہہ دل سے پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد چیئر مین ایچ ای سی ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایچ ای سی، لرننگ انوویشن ڈویژن اورآئی او ٹی کے فوکل پرسن مسٹر معین الدین قریشی و ایچ ای سی کے تمام افسران کے شکر گزار ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین، وائس چانسلر نے اپنے صدارتی کلمات میں اس کورس کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمام جملہ ملازمین اپنے اپنے شعبہ جات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں اور اپنے فرائض منصبی نہایت دیانتداری اور دلجمعی سے ادا کریں اور اس طرح کے خصوصی تربیتی کورسز یقیناً انکے علم میں اضافے کا باعث بنیں گے اور اس تربیتی کورس سے استفادہ فرماتے ہوئے اپنے پیشہ وارانہ امور کو بہتر انداز میں سر انجام دیں۔ وائس چانسلر نے مزید تاکید کرتے ہوئے کہا کہ تمام افسران و آفیشلز کو چاہیے کہ وہ طلباء سے عمدہ سلوک کا مظاہرہ کریں،دفتری فائل ورک کو تیزی سے نمٹائیں ۔وائس چانسلر نے کہا کہ میرے دفترمیں کوئی فائل نہیں رکتی اور میں حتی الامکان کوشش کرتا ہوں کہ تمام ڈاک فی الفور نمٹا دی جائے۔ میں نے اپنے چار سالہ قیام میں اقرباء پروری سے گریز کیا ہے اور میں آپ سے بھی توقع کرتا ہوں کہ آپ اپنا کام کرتے وقت محنت‘دیانت اور صداقت سے کام لیں گے اور لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ وائس چانسلر نے شرکاء کو بتایاکہ انہوں نے اپنے دورمیں بہت سارے لوگوں کو ٹریننگ کورسز کرنے کیلئے اندرون/ بیرون ملک بھیجا تاکہ وہ اچھے پیشہ ور کے طور پر کام کر سکیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ آپ اپنا کام کام محنت سے کر تے جائیں اور خدا پہ بھروسہ رکھیں ، یقیناًترقی آپکا مقدر ہوگی۔ اپنا کام ایمانداری سے سر انجام دینا بھی عبادت ہی ایک شکل ہے لہذا اپنا رزق حلال کر کے کھائیں اور اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بر وقت بہتر کرتے رہیں۔