جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں کوالٹی ایجوکیشن کے فروغ اور ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہونے کے لیے اساتذہ کو جدید تعلیمی تقاضوں اور رجحانات سے متعارف کروانا ہوگا تا کہ وہ نئی نسل کی تربیت بہتر انداز سے کر سکیں اس سلسلے میں ہائیرایجوکیشن کمیشن بھرپورکردار ادا کر رہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ روز اکیڈمی آف ہائیر ایجوکیشن کے تعاون سے ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کے زیر اہتمام ”اساتذہ کی پیشہ وارانہ قابلیت کو بڑھانے “ کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہا کہ جی سی یونیورسٹی نے مختصر عرصہ میں 125پی ایچ ڈی اساتذہ کی خدمات حاصل کر لیں ہیں جن میں بعض اپنے شعبوں میں نمایاں نام رکھتے ہیں اس کے علاوہ نوجوان اساتذہ کی بھی تعلیمی صلاحیتیں اور استعداد کار بڑھانے کے لیے مختلف ورکشاپس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، یونیورسٹی امسال اپنے وسائل سے 23کروڑ روپے بچت کر کے سوشل سائنسز بلاک کی تعمیر خود کرے گی جس پر کام کا آغاز جلد ہو جائے گا، وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی میں داخلوں کے عمل میں میرٹ کے نفاذ کے لیے تمام عمل کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر محمد آصف ملک نے خطاب کرتے ہوئے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد اور افادیت پر روشنی ڈالی، ورکشاپ ایک ماہ تک جاری رہے گی اور اس میں تقریباً یونیورسٹی کے35اساتذہ کر ٹرنینگ دی جائے گی ۔
[singlepic id=732 w=320 h=240 float=center]
