سیرت چےئر کی منظو ری دی جا ئے یہ مطا لبہ خو ش آئندہ ہے اور سیرت کے حو الے سے شعبہ اسلا میات و عربی نے گزشتہ چند ما ہ سے بہت عمدہ کا ر کر دگی کا مظا ہرہ کیا ہے یہاں سیرت چےئر ہو نی چا ہئے تا کہ مطا لعہ سیرت کے مقدس مشن کو زیادہ منظم بنیا دوں پر جا ری رکھا جا سکے اور اُسکی اور غیر ملکی سیرت نگار محققین کی خدمات سے وسیع پیما نے پر استفا دہ کیا جا سکے ۔ اِن خیا لات کا اظہار جی سی یو نیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پر وفیسر ڈاکٹر ذا کر حسین نے رواں سال میں دوسرے انٹر نیشنل سیرت سیمینار سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔ شعبہ اسلا میات و عربی کے زیر اہتمام منعقدہ دوسرے اس سیرت سیمینار میں وائس چانسلر پر وفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا کہ میں اس اہم کام کیلئے پچاس لا کھ روپے کی رقم مختص کر تا ہوں اُنہوں نے مزید کہا کہ ہما را تعلیمی ادارہ ایسے سیمینار کا انعقاد اس لئے کرواتا ہے تا کہ زیادہ سے زیا دہ اسلام کے پھیلا ؤ میں اہم کردار ادا کر سکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات خوش آئندہ ہے کہ یو نیورسٹی فیصل آباد کا شعبہ علوم اسلامیہ و عربی کی کا ر کر دگی گزشتہ دو تین بر سوں کے دو ران بہت بے مثالی ہے ۔ اور اس حوا لے سے شعبہ کے لو گوں کے سا تھ ساتھ پو ری یو نیورسٹی اس کا میاب سیمینار کروانے پر مبارک کے حق دار ہیں ۔ اُنہوں نے انڈیا سے آئے مذہبی دینی سکالر ڈاکٹر یسٰین مظہر صدیقی اور ابو سفیان اصلاحی کی پاکستان آمد اور جی سی یو نیورسٹی فیصل آباد میں اس انٹر نیشنل سیمینار میں شرکت کو سرا ہا اور کہا کہ اُنکی آمد یو نیورسٹی میں یقیناًعلمی تعاون کا با عث ہے۔ اُنہوں نے سیرت کے مقدس مشن کو زیا دہ منظم بنیا دوں پر جا ری رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیرت کے حوا لے سے کتا بیں لکھنے کا نفرنس اور سیمینار منعقد کر وانے کا یہی مقصد ہے کہ مطا لعہ سیرت کی اہمیت کا احساس بیدار کیا جا ئے اور سیرت کا فہم عام ہو سکے۔ انٹر نیشنل سیرت سیمینار سے خطاب کر تے ہو ئے جا معہ کے شعبہ علوم اسلامیات و عربی کے چےئر مین نے کہا کہ آج ہما رے اس انٹر نیشنل سیرت سیمینار میں ہمسا یہ مما لک بھارت سے آئے مذہبی و دینی سکا لرز پر وفیسر ابو سفیان اصلاحی اور پر وفیسر مظہر صدیقی مو جو د ہیں اور یہ ایک ادا رے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ سیمینا ر سے خطا ب کر تے ہوئے پر وفیسر ابو سفیان اصلا حی نے سر سید کی سیرت نگا ری کے حو الے سے روشنی ڈالتے ہو ئے کہا سر سید احمد خان نے سیرت نگا ر ی میں جو مقام حا صل کیا وہ شا ید ہی کسی اور نے حا صل کیا ہو ۔ اس مو قعے پر پر وفیسر مظہر صدیقی نے کہا کہ حضور پاک ﷺ کی ترسٹھ سالہ زندگی میں اُنکا کر دار ایسا رہا کہ آج چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی ہم انکار ذکر کر رہے ہیں ۔ وہ صبر کا پیکر تھے اور اسلام کا پھیلا ؤ اُنکا مشن تھا اور اپنے مشن کی کا میابی کے حصول کیلئے اُنہوں نے ہمیشہ حق با ت کہی انہیں مشکلیں بھی آئیں انہوں نے کہا کہ بر داشت سے ہی حو صلہ بڑھتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ترسٹھ سالہ زندگی سیرت اور اسکا ایک ایک مر حلہ اور ہر پل ہما رے لئے راہ حیات ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جا معہ کے وائس چا نسلر کا دل ایمان اسلام کے پھیلا ؤ کیلئے دھڑکتا ہے ۔ اس مو قع پر مذہبی و دینی سکا لر پر وفیسر ڈاکٹر اسحا ق قریشی نے اپنے خیا لات کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ ہمیں قرآن کی آیت کلام پاک سے پڑھنی چا ہئے اور اسکا ترجمہ حضو رؐ پاک کی سیرت سے تلاش کر نے کا عزم رکھنا چا ہئے انہوں نے اس کامیاب سیمینار کے انعقاد پر جا معہ کے وائس چانسلر پر وفیسر ڈاکٹر ذا کر حسین کو مبا رکباد دی اور اسے اسلام کے پھیلا ؤ اور سیرت محمدی پر روشنی ڈالنے کو سر اہا ۔ اس سیمینار کی نظا مت شعبہ علوم اسلا میہ و عربی کے پر وفیسر ڈاکٹر عمر حیات انصا ری نے کی اور اس حو الے سے کہا کہ اسی سال میں یہ دوسرا سیمینار ہے جو جا معہ کے وائس چانسلر پرو فیسر ڈاکٹر ذا کر حسین کی کو ششو ں اور اِس سلسلے میں دلچسپی کے با عث ممکن ہو ا۔ اس سیمینار کے آخر میں جا معہ کے وائس چانسلر پر و فیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے شرکا ء میں تحائف اور شیلڈز تقسیم کیں ۔