Government College University Faisalabad

Pharmacy Symposium

Posted on: 25 Apr 2011

جی سی ےونےورسٹی فےصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر حسےن نے کہا ہے کہ معاشرہ مےں مےڈےسن کے استعمال کے حوالہ سے آگاہی کی اشد ضرورت ہے اس سلسے مےں حکومت کوہیلتھ پالےسی پر بھی نظرثانی کرنی چاہے۔ ان خےالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کالج آف فارمےسی کے زےر اہتمام پہلے نےشنل فارمےسی سمپوزیم کی اختتامی تقرےب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیاپہلے نےشنل فارمےسی سمپوزیم کے دوران ملک کی ممتاز فارمےسی کمپنز کے سٹال لگانے کے علاوہ طلباءنے اپنے پروجےکٹس بھی ڈسپلے کےے۔ سمپوزیم مےں پرنسپل پنجاب مےڈےکل کالج ڈاکٹر رےاض حسےن ڈب ،چےف فارماسسٹ شفاءانٹرنےشنل ڈاکٹر شفقت ہمدانی، سےکٹرےری پاکستان فارمسےی ایسوسی اےشن ندےم اقبال ڈائرےکٹر اےڈمن چوہدری محمد مشتاق کے علاوہ مختلف ےونےورسٹیوںکے استاتذہ اور طلباءنے بھی شرکت کی ۔سمپوزم کامقصدہ پاکستان مےں فارمیسی اور درست ادوےات کے استعمال کے بارے مےں آگاہی فراہم کرناتھا۔ سمپوزم سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر حسےن نے جی سی ےونےورسٹی مےں ماڈل فارمیسی کے قےام کے لئے پچاس لاکھ روپے کالج آف فارمےسی کو دےنے کا علان کےا۔انہوں نے کہا کہ فارمسےی اور مےڈےکل لازم و ملزوم ہےں۔ اور فارمسےی کے سٹوڈنٹس کو گو رنمنٹ سکےٹر مےں جاب تلاش کرنے کی بجائے پرائےوےٹ سکےٹر مےں آنا چاہے۔جہاں ان کےلے¾ بے پناہ مواقع موجودہ ہےں۔انہوں نے سٹوڈنٹس کو محنت کرنے کی ضرورت پر زور دےتے ہوئے کہا کے دُنےا مےںمحنت کاکوئی نعم البدل نہےں ہے۔اس موقع پرپرنسپل کالج آف فارمیسی ڈاکٹر مقصود احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ایک روزہ پہلے نیشنل فارمیسی سیمپوزیم کا مقصد فارمیسی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔تا کہ لوگ فارمیسی کی معاشرے میں اہمیت کو سمجھ سکیں۔ڈاکٹر مرض کا تشخیس کرتاہے جبکہ فارماسس ماہر ادویات ہے۔ڈاکٹر،فارماسس،نرسیسزاور پیرا میڈیکل سٹاف ملکر مریض کی صحت یابی کے لئے کوشش کرتے ہیں۔اس میں ایک کی بھی کمی ہیلتھ میکانیزم کو نا مکمل بنا دیتی ہے۔فارماسس دوائی کے متعلق مکمل معلومات مریض کوفراہم کرتا ہے۔کوالیفائڈ فارماسس سے دوائی نہ لینے سے اچھی خاصی دوائی بھی زہر کا کام کر سکتی ہے۔لہذا معاشرے میں فارماسس کی اہمیت کو سمجھے بغیر دوایﺅں کے معزر اثرات سے بچنا ناممکن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فسٹ وومن بینک اور فسٹ وومن یونیورسٹی کی طرز پر فسٹ وو من کمیونٹی فارمیسی کا قیام عمل میں لاکر ہمارے معاشرے میں 51فیصد خواتین کی خدمات کو بروئے کا لایا جاسکے۔