دنیا میں وہی مما لک ترقی کر تے ہیں جو تعلیم کے حصول اور فر وغ کے لئے زیا دہ سے زیادہ کام کریں اور آ ج کمپیو ٹر کے دور میں جہاں جدید ترین ٹیکنالوجی تعلیم کا حصہ بنتی جا رہی ہے وہا ں ریا ضی اکنا مکس اور شماریات کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور یہ ہر فیلڈ میں اِنسان کے کام آتے ہیں ۔ لہٰذا ہما رے آج کے طا لب علموں اور طا لبات کو سٹیٹسٹکس کے ذریعے کی گئی ریسر چ پر پو را اعتماد ہو تا ہے ۔ یہ تینوں مضا مین ملک میں ترقی حا صل کر نے کیلئے اہم کردار ادا کر تے ہیں ۔ اِ ن خیا لات کا اظہار جی سی یو نیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پرو فیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے جا معہ کے ڈیپارٹمنٹ آف سٹیٹسٹکس کے زیر اہتمام سٹیٹسٹکس ریسرچ کے مو ضوع پر منعقدہ چار روزہ ورکشاپ کے دوران کیا اُنہوں نے کہا کہ ہما رے طا لب علموں اور طا لبات کو چا ہئے کہ وہ اس مضمون کی تمام اصلا حات کو سیکھیں اِس مو قع پر جی سی یونیورسٹی کے ہیو من ریسورس مینجمنٹ کے ڈا ئریکٹر ایچ آر شیخ محمد اکرم نے کہا کہ ترقی کیلئے ہمیں ہر مضمون میں اُسکی جدید ترین اصلاحات کو سیکھنا ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ سٹیٹسٹکس ما رکیٹنگ اور مینجمنٹ ہر ڈسپلن میں سٹو ڈنٹس کے کام آتی ہے۔ اس مو قع پر ورکشاپ کی کنوینئر اور ڈین فیکلٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی ڈاکٹر نو رین عزیز قریشی نے کہا کہ سٹیٹسٹکس تمام گریجو یشن ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کیلئے اہمیت کا حامل ڈسپلن ہے اور اس کے بغیر ہما ری اُن کی ریسرچ کا پو را ہو نا نا ممکن ہے ۔ اس مو قع پر سٹیٹسٹکس ڈیپا رٹمنٹ کے چےئر مین ڈاکٹر تنو یر نے کہا کہ ہم اپنے طا لب علموں کو ریسرچ میتھڈ سکھا ئیں گے تا کہ وہ پر یکٹیکل لا ئف میں اِس پر عمل درآمد کر کے کا میاب زندگی گزار سکیں اور ملک میں ترقی کیلئے اس کو اپلا ئی کر تے ہوئے ملکی ترقی کا با عث بنیں ۔ ورکشاپ میں پا کستان کے مختلف ادا رؤں سے اسا تذہ نے شرکت جس میں ڈاکٹر فیصل مقبول زاہد، ڈاکٹر سجاد حیدر بھٹی ، مسٹر علی رضا، مسٹر محمد عرفان ، مسٹر محمد عا بد شا مل تھے۔