جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر ذاکرحسین نے کہاہے کہ یونیورسٹی کی عظمت رفتہ کی بحالی میرا عزم ہے میرٹ میر ی اولین ترجیح ہے کیونکہ پاکستان کی بقاءکو الٹی ایجوکیشن اور میرٹ میں ہی مضمر ہے ماضی میں جی سی یونیورسٹی کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹاگیا جب میں نے مخدوش حالات میں چارج سبھالا تو 30 کڑوڑ روپے کے واجبات یونیورسٹی کے ذمے تھے ان خیالات کا اظہار اُنہوں کے ڈائریکٹر ایڈمن کی موجودگی میں پر یس کو بریفنگ دیتے ہو ئے کہا وائس چانسلر نے کہا کہ میں نے 50 پی ایچ ڈی اساتذہ کی خدمات حاصل کر لیں ہیں جن کی تنخواہ ہائر ایجوکیشن ادا کر رہی اور وہ ڈھائی کڑوڑ روپے ریسرچ کے لیے بھی سا تھ لائے ہیں اُنہوں نے بتایا کہ جب میں نے چارج سمبھالا تو یوینورسٹی میں کوئی لائبیریر ی موجود نہیں تھی جس کے لیے میں نے ایک رُکن پارلمینٹ کے ذریعے 2 کڑوڑ روپے کی گرانٹ حاصل کر لی ہے اور اس کی تعمیر کا آغاز بھی جلد ہو جائے گا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اس کے خاتمے سے قومی و حدت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے وائس چانسلر نے کہاکہ جب میں نے چارج سنبھالاتو اس یونیورسٹی میں کوئی ریگولر ڈین ، رجسٹرار، ٹریژار موجود نہیں تھا میں نے مالی سے لیکر پروفیسر تک کی سیٹس ایڈورٹائز کر دیں ہیں اور انشاءاللہ مئی کے آخر تک تمام ٹیچنگ سٹاف ریگولر ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد ڈویژن کی واحد جنرل یونیورسٹی ہے جو پندرہ ہزار طلباءطالبات کو چونتیس شعبوں میں بیچلرز ، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کروا رہی ہے اور یہHECکی رینکنگ انیسویں نمبر اور تعداد کے لحاظ سے پنجاب کی دوسری بڑی یونیورسٹی ہے اور میں اسکو پاکستان کی پہلی دس بہترین یونیورسٹیوں کی صف میں شامل کرنے کا عزم رکھتا ہوں ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا کہ میں ایک سٹوڈنٹ ٹیچر فرینڈلی وائس چانسلر ہوں اور میری تمام تر توجہ طلبا ءکو صحتمندانہ تعلیمی ماحول کی فراہمی پر ہے کیونکہ صحت مندانہ ماحول میں ہی یونیورسٹی میں ریسر چ کلچر کو فروغ حاصل ہو گا ۔وائس چانسلر نے کہا کہ میں نے فیصل آباد ڈویژن کے تمام کالجز کو یونیورسٹی کے الحاق کی دعوت دی ہے جن میں سے اکثر نے آمادگی کا اظہار کیا ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی اپنے اخراجات کا ساٹھ فیصد اپنے وسائل سے پورا کررہی ہے اور معاشی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اپنے اخراجات پر کنٹرول کرنا شروع کر دیا ہے ، نیو کیمپس کے حوالے سے انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑا پروجیکٹ ہے جس پر دس ارب روپے لاگت آئے گی لیکن میں اس کی تعمیر کا آغا ز کراﺅں گاوائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی میں گزلزہاسٹل کی کمی ہے زیرتعمیر سوشل سائنسز بلاک، ایمرجنگ سائنسز اور گزلز ہاسٹل کی تعمیر کےلئے مزید رقم درکار ہے کیوں کہ پچھلی مینجمنٹ میں منصوبوں کی تخمینہ لاگت سے زیادہ رقم پر بوگس فرموں کو ٹھیکے دے دیئے تھے اور ان فرمو ں کو منصوبے مکمل کئے بغیر ٹھیکے کی رقم سے بھی زیادہ کی ادائیگی ک جاچکی ہے، وائس چانسلر نے کہا کہ و ہ شہر کی تاجر برادری کو بھی ساتھ لیکر چلانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اس شہر کی یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیں ، ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا کہ یونیورسٹی کے مسائل کے حل کے لئے میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایڈمن چوہدری محمد مشتاق نے یونیورسٹی کے ماضی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسے 2002ءمیں یونیورسٹی کا درجہ ملا اور اس کے ساتھ قائم ہونے والی یونیورسٹیوں نے دن دگنی ترقی کی لیکن بدقسمتی سے اس یونیورسٹی کو ایسے لوگ مل گئے جن کے مقاصد کچھ اور تھے انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر ذاکر حسین جیسی نامور اور تجربہ کار شخصیت کا جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالااور نہ صرف اس یونیورسٹی بلکہ پورے شہر کی خوش قسمتی ہے جن کی قیادت میں جلد یہ یونیورسٹی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلے گی ۔

