Government College University Faisalabad

Pakistan Day Celebration at GCUF

Posted on: 24 Mar 2014

 مارچ۲۳ تجدید عہد وفا کا دن اس دن کی بنیاد آج سے 74سال پہلے رکھی گئی مولوی فضل الحق نے اس دن جو قرارداد پیش کی آج وہی بنیاد ہے جس پر پاکستان کی عمارت تعمیر ہوئی اب ہمیں یہ سوچنا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک ایسا خطہ جس کا نام پاکستان ہے اپنی دن رات کوششوں سے لے کر تو دے دیا مگر آج تک ہم نے اس وطن عزیز کو کیا دیا اصل میں انہوں نے ہمیں وطن دیا اور اب اس میں ایک مضبوط قوم بن کر رہنے کا قرض ہم پر ہے ہم لوگ فرقوں ،ذاتوں ،برادیوں میں بٹ چکے ہیں ہمیں اللہ کی عطاء ہے کہ اس ملک میں ہمارے پاس پانچ دریا اور چار موسم ہیں ہماری دھرتی پر سال میں تین سو دن سورج اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ چمکتا ہے ہمیں اس کا صیح استعمال کر کے اس پاک دھرتی کے کل کو سنوانا اور مضبوط بنانا ہے اور خوشحالی کی طرف قدم بڑھانا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے جشن یوم پاکستان 23مارچ کے موقع پر جامعہ کے اقبال ہال میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارا ملک خشک سالی کے دہانے پر ہے اور پانی کے حوالے سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں ملک میں فرقوں اور ذاتوں میں بٹنے کی بجائے اور اداروں میں گریڈز کی دوڑ میں شامل ہونے کی بجائے اس پاک دھرتی کی ترقی کے لئے سوچنا ہوگا ۔انہوں نے مزید کہا کہ میں ملک میں اپنی نئی نسل کی طرف دیکھ رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میرے وطن عزیز کے نو کروڑ بچے اور بچیاں اس وطن کی بھاگ دوڑ سنبھالیں گے انہوں نے کہا کہ زندگ کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں ڈاکڑز ،وکلاء، سیاستدان ،اساتذا ،کھلاڑی اور بیوروکریٹس شامل ہیں اپنی اپنی فیلڈز میں ملک کی خدمت کریں تو یقیناًیہ ملک ترقی کرے گا خوشحال ہو گا اور اس میں امن بھی رہے گا۔انہوں نے قائد کے دو قومی نظریے کی تعریف کی اور قیام پاکستان تک اپنے بزرگوں، بھائیوں،بہنوں،بیٹیوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آج ہمیں ان کے خون کی قیمت ادا کرنا ہو گی ان کا کہنا تھا کہ اگر انسان کے مقاصد میں نیک نیتی شامل ہو تو اللہ تعالیٰ مدد کرتے ہیں اس لیے آج ہمیں اس پاک دھرتی کی بہتری کے لیے نیک نیتی سے سوچنا ہے اور اس کے لیے اپنی مثبت ورکنگ میں مشغول رہنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بحثیت وائس چانسلر میرا یہ فرض ہے کہ میں اپنے تعلیمی ادارے کے ذریعے ملک میں تعلیم کو فروغ دوں اور جامعہ کے مختلف ڈیپارٹمنٹس کی مشاورت سے اپنے تعلیمی ادارے اور ملک کی خوشحالی کے لئے جامع پلاننگ کروں اور یہ سب ٹیم ورک کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک سے سفارش کلچر کو ختم کر کے میرٹ کی بنیاد پر کام کرنا ہو گا انہوں نے نوجوان نسل کو ملک کا سرمایا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں آ پ پر بہت اُمید ہے کہ آپ علم کی طاقت سے آگے بڑھیں گے ۔انہوں نے قائداعظم کے فرمان ایمان ،اتحاد،تنظیم کے حوالے سے کہا کہ اگر ہمارے آج کے طلباء اس پر عمل کر لیں تو کامیابی ان کے قدم چومے گی ۔انہوں نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک آپ کو پکار رہا ہے آپ نے اس پاک دھرتی کی تقدیر بدلنی ہے اور وطن عزیز کو ترقی کے گراف میں بلند مقام دلوانا ہے ۔اس موقع پر جامعہ میں قیام پاکستان کے لئے کوششیں کرنے والے رہنماؤں کی تصاویری نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ اس پر وقار تقریب میں ملی نغمے بھی پیش کئے گئے۔اس سے قبل آغاز میں طلباء اساتذہ اور مہمانوں نے مل کر قومی ترانہ پڑھا ۔تقریب میں جی سی یو نیورسٹی شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکڑ آصف اعوان نے 23 مارچ کے دن کو پرامس ڈے قرار دیا جبکہ شعبہ علوم اسلامیہ کے پروفیسر ڈاکڑ ہمایوں عباس شمس نے کہا کہ (افکار،افراد اور اشیاء) بہت اہم ہیں لیکن افراد افکار کے محافظ ہوتے ہیں آج جن افراد نے پاکستان حاصل کرنے کی فکر کی ہمیں آج ان کو خراج تحسین پیش کرنا ہے ۔ تقریب سے یو نیورسٹی آف فیصل آباد کے ڈاکڑ مصدق نے بھی اظہار خیال کیا ۔اس موقع پر شعبہ پاکستان سٹڈیز کے انچارج عبدالقادر مشتاق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان میں جن لوگوں نے جانوں کے نذرانے پیش کےئے آج کا دن ان کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے ۔اس موقع پر تقریب کے میزبان ذیشان احمد خان نے اپنے بھرپور اور پرجوش انداز میں اس تاریخی تقریب میں اپنی خطابت کے ذریعے تقریب میں موجود مہمانوں کی دل جیتے اس موقع پر انہوں نے کہا جہاں جشن یوم پاکستان 23مارچ منانے کے حوالے سے حکومت اپنی ذمہ داری نبھاتی ہے وہاں اداروں کی سطح پر بھی یہ رواج زور پکڑ رہا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ جشن یوم پاکستان 23مارچ کے موقع پر جی سی یونیورسٹی میں چراغاں کا بھی اہتمام کیا گیا۔

[nggallery id=210]