Government College University Faisalabad

Two Days Workshop on Scientific Communication

Posted on: 07 Apr 2014

اگر ہم ملک میں ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی نوجوان نسل کو تعلیم کی طرف راغب کرنا ہو گا اور ہمارے تعلیمی اداروں کو اپنے اپنے شعبوں میں سیمینار ز ورکشاپس اور ایورینس سیشن منعقد کروانے ہونگے ۔ تا کہ ان کے ذریعے بچوں میں زیا دہ سے زیادہ انفارمیشن انسرٹ کی جا سکے اور یقیناًاس کا اثر ملک کی ترقی پر بھی پڑے گا۔ اِن خیا لات کا اظہار جی سی یونیورسٹی کے قائمقام وائس چانسلر ڈاکٹر محمد زبیر نے شعبہ ریسرچ اینوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے زیر اہتمام دو روزہ ’’سائنٹیفک کمیونیکیشن‘‘ کے مو ضوع پر منعقدہ ورکشاپ کے پہلے دن کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اُنہوں کہا کہ ہماری جامعہ کی یہ روایت رہی ہے کہ ملک کے ہر میدان میں ہم نے نامور کھلاڑی اور ریسرچرز پیدا کئے ہیں جنہوں نے جامعہ کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کانام بھی روشن کیا ہے۔ اور یہ ’’سائنٹیفک کمیو نیکیشن ‘‘ کے موضوع پر ہونے والی ورکشاپ بھی ہماری جامعہ کے سٹو ڈنٹس کیلئے بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ اِس ورکشاپ کے اختتامی سیشن میں دُنیا کے معروف ماہربیالوجسٹ پروفیسر راب بریڈن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کپاس میں وائرس کی بیماریوں پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی فصلوں کو بیماریوں سے بچانے کیلئے مضبوط پلاننگ کرلیں تو یقیناًہم اِن حفاظتی اقدامات کے ذریعے ملکی پیداوار کو بڑھاسکتے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے اور اسکی معیشت کا انحصارزراعت ہے اور آج کی نت نئی ایجادات کے دور میں پاکستان بھی سائنس بیسڈ ایگریکلچر ملک کہلاتا ہے تو اس حوالے سے جہاں ریسرچ جاری ہے اُس کے ساتھ ساتھ ہمیں حفاظتی اقدامات بھی کرنا ہو ں گے۔اُن کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے جامعہ کے ڈائریکٹر ریسرچ پروفیسر ڈاکٹر فرحت عباس نے کہا کہ کوالٹی ایجوکیشن اور تحقیق کو ملکی جامعات میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اُنہوں نے مزید کہا کہ ایسی ورکشاپس یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات اور اساتذہ کیلئے تحقیق میں معاون ثابت ہونگی۔ اس ورکشاپ کے پرنسپل آرگنائزر ڈاکٹر عامر محمود اور ڈاکٹر ابراہیم ،سلمان منصور نے ورکشاپ کے اغراض ومقاصدپر روشنی ڈالتے ہوئے اسے ملکی ترقی میں سود مند قرار دیا۔

[nggallery id=215]