Government College University Faisalabad

Seminar on the Role of Chamber of Commerce and Banking Sector in Pakistan’s Economics

Posted on: 11 Apr 2014

پاکستان کی آبادی اس وقت بائیس کروڑ ہے اور جس میں سے صرف آٹھ لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں اگر یہ شرح بڑھ جا ئے تو یقیناًوطن عزیز کی اکانومی بہتر ہو جائے گی مگر بد قسمتی سے ہم ٹیکس نیٹ میں آنا ہی نہیں چاہتے۔ اِن خیا لات کا اظہار چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فیصل آباد کے صدر سہیل بن رشید نے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس کے زیر اہتمام چیمبر آف کامرس اینڈ بینکنگ سیکٹر کا پا کستانی معیشت میں کردار کے مو ضوع پر منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اُنہوں نے کہا کہ اس وقت کامرس انڈسٹری کو جن مسائل کا سامنا ہے اُس میں توانائی کا بحران اور سوئی گیس بحران سر فہرست ہیں اور اگر یہ مسائل حل ہو جائیں تو یقیناًاِس کے رزلٹ بہتر ہوں گے۔ جس کا ڈائریکٹ مثبت اثر ہماری اکانومی پر پڑے گا اور ہمارا وطن مزید ترقیوں اور کامیابیوں کی راہوں پر گامزن ہو جائے گا۔ اُنہوں نے جامعہ میں موجود سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کا یہ بہت بہتر اقدام ہے کہ اُنہوں نے یہ سیمینار منعقد کروایا۔ اُنہوں نے کہا کہ بنکس بزنس کمیونٹی میں بہت وائیٹل رول پلے کرتے ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کا کام گورنمنٹ اکانومی کو اپ لفٹ کرنا ہے۔ اُنہوں نے جامعہ کے طلبہ وطالبات سے کہا کہ آپ ہمارا سرمایہ ہیں لہذا آئندہ آنے والے وقت میں آپ نے اس ملک کی ترقی کیلئے اپنی اپنی فیلڈ میں ورکنگ کرنا ہے اس لئے آپ کو چاہئے کہ پراجیکٹس بنائیں ۔ اور اپنے سینئرز کو دیں تاکہ وہ اُسے اپنی ایگل آئی سے دیکھتے ہوئے آگے فارورڈکریں۔ اُنہوں نے چیمبر کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری یہ کوشش ہے کہ ہمارے ملک کی ٹریڈ بڑھے اور یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہو گا کہ فیصل آباد پاکستان کا دوسرا سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے۔اُنہوں نے کہا کہ فیصل آباد کو آج پراجیکٹس کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں اُنکی بات وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے ہوئی اور اُنہوں نے کہا کہ انشااللہ ہم بہت جلد فیصل آباد کی طرف اپنی بھر پور توجہ مرکوز کرنے والے میں اس سیمینار میں سوال و جواب کے سیشن میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر چیمبر آف کامرس سہیل بن رشید نے کہا کہ فیصل آباد کی اپ گریڈیشن کیلئے ورکنگ جاری ہے اور اس سلسلے میں فیصل آبا د کا ائیرپورٹ بھی اُن کی لسٹ میں شامل ہے جس میں فیصل آبادکے ائیر پورٹ کی تزئین وآرائش اور اسے اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اُنہوں ے مزید کہا کہ صدر پاکستان کاکہنا ہے کہ وہ انشااللہ جلد ہی فیصل آباد میں مزید یونیورسٹیاں بنائیں گے جس سے ہمارے بچے مختلف ڈسپلنز میں تعلیم حاصل کر کے ملکی ترقی میں اپنا اہم کردار اداکریں گے ۔ اُنہوں نے معیشت کی بہتری کے حوالے سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چیمبر آف کامرس کا سب سے اہم کام یہ ہوتا ہے کہ بزنس کمیونٹی اور گورنمنٹ بزنس آرگنائزیشنز کے درمیان بہتر سے بہتر روابط پیدا کئے جائیں تاکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور بنکس مزیدگورنمنٹ بزنس آرگنائزیشنز مل کر پاکستان کی معیشت کی بہتری کیلئے ورکنگ کریں۔ اس سیمینار میں مختلف ادارؤں سے آئے مقررین نے اظہار خیال کیا اور کہا جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کا جامعہ میں یہ سیمینار کروانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس وقت ملک کا یہ تعلیمی ادارہ ملک کی اکانومی کو بہتر بنانے میں ایک پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سیمینار میں جامعہ کے کو الٹی انہانسمنٹ سیل کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر زبیر صدیقی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں ہمارے بچے تعلیمی ادارؤں میں بہتر معیار کی تعلیم حاصل کریں کیو نکہ بہتر معیاری تعلیم ملکی ترقی کی فضا کو مطہربنائے گی۔ اور یوں ہم ترقی کی منازل تیزی سے طے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اُنہوں نے اس سلسلے میں جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین کی کوششوں کو سراہا اور کہاکہ یہ اُنکی بہتر لیڈر شپ کا بہتر نتیجہ ہے کہ آج ہماری جامعہ کو مقدم مقام حاصل ہے۔ سیمینار میں موجود جامعہ کے ڈیپارٹمنٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس کے مختلف مقررین نے پاکستان کے ٹیکس سسٹم پر روشنی ڈالی اور جامعہ میں ایسے سیمینار کروانے کی روایت کو جاری رکھنے کی یقین دہانی دلائی۔