خوش نصیب ہیں ہم اگر اپنے خون کے عطیے سے کسی ایک کی بھی زندگی بچاتے ہیں خون کا کوئی بھی نعم البدل نہیں ہے ہم ایسے خود تیار نہیں کر سکتے ان خیالات کا اظہار پروفیسر ڈاکٹر نورین عزیز قریشی نے گزشتہ روز بلڈ دونیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام ’’ خون کے عطیہ کے بارے آگہی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے اگر ہمارے خون کے عطیے سے کسی ایک کی زندگی بچتی ہے۔ انہوں نے کہا بحثیت مسلمان آخرت میں ہم اپنے اعمال کے جوابدہ ہوں گے کہ دنیا میں کیاکیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے سیمینارز معلومات اور آگاہی کا ذریعہ ہیں۔ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف میڈیکل سائنسز ڈاکٹر ریاض حسین ڈب نے بتایاکہ ایک انسان کے جسم میں خون کی ایوریج ۵ لیٹر ہے اور بچوں میں 70سی سی سے 100سی سی تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم ایک بوتل کسی کو خون دیتے ہیں تو اس سے ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ ہمارے جسم میں تازہ خون پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خون کے سرخ ذرات کی زندگی80 سے100دن ہوتی ہے۔اس کے بعد یہ جل جاتے ہیں اور ان کی جگہ نیا اور تازہ خون پیدا ہوتا ہے،۔ انہوں نے بتایا کہ دماغ اور دیگر جسمانی اجزاء کو آکسیجن مہیا کرتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈخارج کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خون دینا نیکی ہے اور خون کی خرید و ٖفروخت ایک ناجائز کام اور جرم ہے۔ڈاکٹر رافعہ امتیاز نے بتایا کہ خون دینے اور لینے کے بعد کچھ دیر آرام کریں۔ہلکی بھلکی خوراک کھائیں اور ذہنی طور پر خون دینے کے لئے تیار ہوں اورخوف ذدہ ہرگز نہ ہوں۔خون کی ایک بوتل تین سے چار زندگیاں بچا سکتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ خون دینے والے شخص میں دل کے دورے اور فالج کے خطرات بہت کم ہو جاتے ہیں مزید یہ کہ جسم سے 650کیلریز خارج ہیں اور جسم سے چکنائی کم ہوتی ہیں۔